سدھارتھ نگر، 15؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے آج مرکز میں حکمران بی جے پی پر عوام کو ’’اچھے دنوں‘‘کے نام پر دھوکہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے اسے اپنی اور ریاست کی ایس پی حکومت کے منصوبوں کا موازنہ کرنے کا چیلنج دیا۔اکھلیش نے سدھارتھ نگر میں 370کروڑ روپے کے مختلف منصوبوں کی سوغات دیتے ہوئے کہا کہ مرکز نے کہا کہ اچھے دن آئیں گے،وہ دن کس راستے سے آئیں گے،انہوں نے ملک کی عوام کے ساتھ دھوکہ کیا ہے،بی جے پی اقتدار میں آ گئی، بتائیے وہ ہمارے کس منصوبے سے موازنہ کرنا چاہیں گے۔انہوں نے کہا کہ کیا آپ(مرکز)کے پاس سماج وادی پنشن منصوبہ بندی، سماج وادی ایمبولینس منصوبہ بندی کا کوئی مقابلہ ہے،بتائیے آپ کیا سہولت دے رہے ہیں طہم سائیکل اور لیپ ٹاپ بھی دے رہے ہیں،آپ بتائیں کہ آپ نے کون سا کام کیا ہے۔اکھلیش نے عوام سے کہا کہ اگر آپ موازنہ کریں گے تو سوشلسٹوں کو آپ بہتر پائیں گے،ہم اپنے کارکنان ساتھیوں سے کہیں گے کہ عوام کے درمیان جاکر اس سے پوچھیں کہ موازنہ کر لو کہ کون پارٹی آپ کے لیے کام کر رہی ہے،یہی ترقی اور خوشحالی کا راستہ ہے،دوسرے کے پاس راستہ ہے تو بتائے،کوئی راستہ نہیں ہے، کوئی منشور نہیں ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ سپائی لوگ منشور بناتے ہیں تو اسے زمین پر بھی اتارنے کا کام کرتے ہیں،ہندوؤں اور مسلمان سب کو ایس پی پر اعتماد ہے،اتنا بہتر کام کسی حکومت نے نہیں کیا ہے،ایک بار پھر ہم آپ سے اپیل کریں گے کہ سوشلسٹوں کو ایک اور موقع دیں۔انہوں نے مرکز پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی جن دھن منصوبہ بندی کو لے کر بڑی بڑی باتیں کرتی ہے لیکن اگر ریاست کی ایس پی حکومت نے 6 ہزار نئی بینک شاخیں نہ کھلوائی ہوتیں تو اتنی بڑی تعداد میں جن دھن منصوبہ بندی کے اکاؤنٹ کس طرح کھلتے۔اکھلیش نے بی ایس پی کو گھیرتے ہوئے کہا کہ اس پارٹی نے عوام کی گاڑھی کمائی کا پورا پیسہ پتھروں میں لگا دیا۔